روسی صدر پیوٹن کی دعوت پر وزیراعظم عمران خان دو روزہ دورے پر آج ماسکو روانہ ہوں گے۔ کابینہ ارکان سمیت اعلیٰ سطح وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ جائے گا
وزیراعظم تئیس فروری کی شام ماسکو پہنچیں گے وہاں انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا. وزیراعظم جنگ عظیم دوم کی یادگار پہ بھی جائیں گے جہاں یادگار پر پھول چڑھائیں گے
وزیراعظم چوبیس فروری کو روسی صدر سے ملاقات کریں گے جبکہ روسی نائب وزیراعظم سے بھی ملاقات طے ہے
اسکے علاوہ روسی سرمایہ کاروں و کاروباری حضرات سے ملاقات کریں گے اور اسلامک سینٹر کا دورہ بھی کریں گے جہاں روس کے مفتی اعظم سے ملاقات کریں گے
پاکستان اور روس کے درمیان توانائی منصوبوں بالخصوص گیس پائپ لائن کی جلد تکمیل پر بات چیت بھی ہو گی
یہ دورہ افغانستان میں پائیدار امن، علاقائی خوشحالی اور انسدادِ دہشتگردی تعاون کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے
روسی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو اور پاکستانی و روسی میڈیا سے بات چیت بھی وزیراعظم کے دورہِ روس کا حصہ ہیں
روسی اور یوکرائن کے درمیان حالیہ تنازعے کے دوران جہاں پوری دنیا کی نظریں روس اور یوکرائن پر ہیں ایسے میں یوکرائن کا وزیراعظم عمران خان سے تنازعے کو روسی صدر کے سامنے اٹھانے کی درخواست کے بعد اس دورہ روس پر پوری دنیا کی نظریں ہونگی امکان ہے کہ اس حوالے سے بھی بات چیت ہوگی
دورہِ روس پاکستان و روس کے دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو گا، بھارت اور امریکہ سمیت مغربی طاقتوں نے اس دورے کو سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے تاکہ کسی طرح ان بڑھتے تعلقات میں ہوتی پیش رفت کو روکا جاسکے بدقسمتی سے اس میں بھارت اور امریکہ کے لیے یہ کارنامے ہماری اپوزیشن ہی سرانجام دے رہی ہے
آپ اس دورے کے حوالے سے ٹوکروں، لفافوں، پٹواریوں، جیالوں، جمعیتی و جماعتیوں کو ہر ٹویٹ، پوسٹ، ہر پلیٹ فارم پر بکواس کرتے دیکھ رہے ہونگے حالانکہ ہمیں سمجھنا چاہیے تھا کہ ملک کے وزاعظم کی عزت اور وقار کسی پارٹی کی عزت نہیں ہوتی نہ ہی وزیراعظم کسی پارٹی کا نمائندہ ہوتا ہے بلکہ وزیراعظم پورے ملک کی نمائندگی کرتا ہے ایسے میں ہمیں ان حساس معاملات میں تنقید کرتے وقت بھی احتیاط سے کام لینا چاہیے، خیر مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے فیصلے تو پھر وہ بھی اکیلا وحدہ و لاشریک کرتا ہے









