جلال پورپیروالہ میں ضلعی انتظامیہ و محکمہ ایجوکیشن کی مبینہ غفلت کے باعث کروڑوں روپے لاگت سے بنایا گیا بوائز ہاسٹل بھوت بنگلے کا منظر پیش کرنے لگا، نشئیوں نے بلڈنگ کا سامان فروخت کرکے ہاسٹل کی بلڈنگ کو ہی اپنا مستقل ٹھکانا بنالیا، جبکہ ہاسٹل نہ ہونے کے باعث مضافاتی علاقوں سے آئے طلباء کو بھی شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے. جلال پورپیروالہ میں مضافاتی علاقوں سے حصول تعلیم کیلئے آئے طلباء کو سفری اخراجات سے بچانے اور رہائش کی سہولت دینے کیلئے کروڑوں روپے کی لاگت سے بوائز ہاسٹل تعمیر کیا گیا تھا جوکہ ضلعی انتظامیہ و محکمہ ایجوکیشن کی مبینہ سنگین غفلت اور بے حسی کے سبب کھنڈرات اور بھوت بنگلے کا منظر پیش کرنے لگا ہے، جبکہ نشئیوں نے بلڈنگ کی کھڑکیاں، دروازے، سریے اور دیگر قیمتی سامان فروخت کرکے ہاسٹل کی چاردیواری اور ٹوٹے بوسیدہ کمروں کو ہی اپنا مستقل ٹھکانہ بنالیا، دوسری جانب مضافاتی علاقوں سے شہر میں حصول تعلیم کے لئے آئے طلباء ہاسٹل کی سہولت نہ ہونے پر پرائیویٹ مہنگی رہائش اور روزانہ کے اضافی سفری اخراجات اُٹھانے پر مجبور ہیں، طلباء نے اعلیٰ حکام سے غیر ذمہ داری کا مرتکب انتظامیہ کیخلاف کارروائی اور بوائز ہاسٹل کو ازسرِ نو تعمیر کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔









