(میرا شہر چشتیاں شریف کا دینی لحاظ سے پس منظر)

تحریر ازقلم عمران حنیف 03006987007
imranraazee@gmail.com

عنوان
(میرا شہر چشتیاں شریف کا دینی لحاظ سے پس منظر)

چشتیاں شریف جنوبی پنجاب ضلع بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں شریف جہاں پر ہر سال یکم ذوالحج کو خواجہ نور محمد مہاروی کھرل کا عرس مبارک منایا جاتا ھے اس عرس میں پاک و ہند سے زائرین شامل ھوتے ھیں خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی ساری زندگی اسلام کے لئے وقف کر دی آج ان کا نام اللہ کے برگزیدہ بندوں میں لیا جاتا ھے خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار چشتیاں ضلع بہاولنگر پنجاب پاکستان میں واقع ھے ان کی زندگی کے بارے میں مجھے لکھنے کی سعادت حاصل ھوئی ھے آپ کی نظر کرتا ھوں خواجہ نور محمد مہاروی صاحب نے 14 رمضان 1146ھ کو چشتیاں بہاولنگر کی بستی چھوٹھاسہ مہار شریف میں پیدا ہوئے آپ کے والد کا اسم گرامی پھندال خاں کھرل اور والدہ کا نام عاقل خاتون تھا۔ آپ کا سلسلہ چشتیہ ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاﺅں مہارشریف سے حاصل کی پھر تعلیم و تربیت اور فکری و روحانی فیض پانے کے لئے ڈیرہ غازی خاں لاہور اور پھر دہلی تشریف لے گئے اور یہاں پر حضرت خواجہ فخرالدین دھلوی کے مرید ہوئے جو نظام الدین اولیا ؒاور بابا فرید شکر گنجؒ پاکپتن والوں کے مرید تھے۔ اس وجہ سے آپ پاکپتن شریف سے بے حد عقیدت رکھتے تھے اور اس طرح آپ کا سلسلہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ سے جا ملتا ہے۔ آپ اکثر جمعة المبارک کیلئے پاکپتن تشریف لے جاتے۔ طبیعت کی ناسازی اور ضعف العمری کی وجہ سے آپ کو شکر گنجؒ کی طرف سے بشارت ہوئی کہ پرانی چشتیاں میں میرے پوتے بابا تاج سرور مدفون ہیں وہاں پر جمعة المبارک کی ادائیگی کیا کرو۔ بعد ازاں آپ نے اس درگاہ مبارکہ پر باقاعدہ حاضری دینا شروع کی اور باقی زندگی یہیں گزار دی۔
آپ کی اولاد مبارکہ میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ آپ مادر زاد ولی تھے۔ ایک روایت ہے کہ ایک فقیر نے والدہ محترمہ کو دیکھ کر کہا کہ دختر نیک اختر کے پہلو میں لال چھپا ہے۔ ایک اور بزرگ نے آپ کی والدہ محترمہ کو دیکھ کر فرمایا اور تعزیم کیلئے کھڑے ہو گئے کہ زمانہ قطب اور آفتاب جہاں تمہاری پیشانی میں جلوہ گر ہے۔ آپ کے کشف و روحانیت کا سلسلہ ملک کے گوشہ گوشہ میں پھیلا ہوا ہے۔ آپ کے خلیفہ اول شاہ سلیمان تونسوی تھے۔ جن پر آپ انتہائی محبت اور شفقت فرماتے تھے۔ ایک روایت ہے کہ ایک شخص آپ سے بیعت ہونے کیلئے حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ تم بڑی دیر سے آئے ہو کہ دودھ کی بالائی تو پیر پٹھان کھا گیا۔ یعنی میری فقیری، کشف اور روحانیت کا زیادہ حصہ شاہ سلیمان تونسوی لے گئے ہیں، باقی لسی رہ گئی ہے۔
آپ کے خلفاء میں حضرت غلام فرید چاچڑاں شریف کوٹ مٹھن والے جن کی کافیاں دل موہ لیتی ہیں۔ نواب آف بہاولپور، محمد بھاول خاثانی کو بھی آپ سے والہانہ عقیدت تھی جو آپ کی بیعت بھی ہوئے۔ یہ سلسلہ حضرت خواجہ غلام رسول توگیری، خواجہ نور محمد نکی مانیکا حضرت خواجہ عبدالکریم نوری، منڈی صادق گنج اور حضرت خواجہ خدا بخش خیر پور ٹامے والی تک جاتا ہے۔
قبلہ عالم کا وصال 1205ھ میں ہوا اور ہر سال یکم تا تین ذوالحج آپ کا عرس مبارک بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے۔دربار عالیہ پر تمام رسومات کی سرپرستی حضرت خواجہ غلام معین الدین مہاروی سجادہ نشین کرتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی عرس کا آغاز محفل حمد و نعت سے شروع ہوتا ھے سلسلہ چشتیہ سے منسلک تمام سجادگان محفل میں شریک ہوتے ھیں اور مزار اقدس پر حاضری دیتے ھیں عرس مبارک اپنے روایتی انداز میں جاری و ساری ھوتا ھے بڑی تعداد میں آپ کے عقیدت مند مزار شریف پر حاضری دیتے ہیں تین ذوالحج کو چراغاں کی رات ہوتی ھے اور آخر میں اجتماعی دعا کا بھی اہتمام کیا جاتا ھے اس سلسلہ میں بہاولنگر میں حکومتی سطح پر عام تعطیل بھی ھوتی ھے

Share This News With Fiends

اپنا تبصرہ بھیجیں