ادھورا نہیں پورا سچ عوام تک

آج ایک دوست کے بیٹے کے ولیمے سے فارغ ھو کر گھر پہنچا تو حسب معمول سب گہری نیند سورھے تھے میں بھی سونے کی کوشش کرنے لگا نیند نہ آنے کے باعث کروٹیں بدل رہا تھا لیکن نیند تھی کہ کوسوں دور تھی موبائل پر واٹس ایپ پر میسجز پڑھنے لگ پڑا۔ اتنے میں دروازے پر دستک ھوئی دروازہ کھولا تو ماں جی تھیں میں نے پوچھا ماں خیریت ھے امی جان نے کہا مریم کو کھانسی آ رھی ھے اور اتنی شدید ھے کہ وومٹنگ بھی کر رھی ھے یہ کوئی رات بارہ بجے کا ٹائم تھا میں فوراً اسے تحصیل کوارٹر ہسپتال لے گیا وہاں ڈاکٹر نے انجیکشن اور نیوبلائز کیا اور بازار کی کچھ میڈیسن لکھ دی میں گاڑی میں مین بازار سے گزر رہا تھا کہ مجھے گلستان بیکری کھلی دیکھ کر بریڈ اور انڈے کا یاد آگیا کہ لیکر جانے ھیں۔ ابھی گاڑی روک کر اترنے ھی والا تھا کہ میرے سامنے پنجاب پولیس کی وین آکر رکی گلستان بیکری کے سامنے برگر شوارمے کی دکان تھی پولیس اہلکار نے برگر والے کو اشارہ کر کے بلایا اتنے میں پولیس وین میں سے ڈی ایس پی شیخ ارشد صاحب اترے اور انتہائی ہتک آمیز رویے کے ساتھ بدتمیزی پر اترے ھوئے تھے کہ ابھی اپنا ٹھیلہ بند کرو ایک طرف ان کا یہ چہرہ اور دوسری طرف وہ چہرہ جو کہ چشتیاں کے رئیس ترین تاجر شیخ یونس جاوید کے گھر دعوت پر ہنستا مسکراتا چہرہ مجھے میرے ضمیر نے جھٹلا کر رکھ دیا اور اندر کی صحافت بھی جاگ اٹھی اتنے میں انہوں نے اگلے چوک میں جاکر فریش جوس کے ٹھیلے والے پر بھی خوب اپنی افسری دکھائی جب میں پاس سے گزرنے لگا تو میری گاڑی کو بھی پولیس اہلکار نے اشارہ کیا میرا نام اور شناختی کارڈ کا پوچھا میں نے اپنا تعارف کروایا اور پولیس اہلکار نے کہا جاؤ میں نے کہا بھائی جس مقصد کے لئے مجھے روکا ھے وہ تو پورا کر لو میری اور میری گاڑی کی تلاشی تو لو ھو سکتا ھے میری جگہ کوئی کریمنل ھو یہ کیا طریقہ ھے آپکی چیکنگ کا اس نے کہاکہ صاحب نے کہا ھے کہ آپ جاؤ اتنے میں مجھے سلطان راھی کی فلم والا صاحب بہادر یاد آگیا خیر میں گھر پہنچا بہت سے سوالات میرے زہن میں گردش کرنے لگے کہ پولیس کا کام عوام الناس کے جان و مال کا تحفظ کرنا اور عوام کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ھے پولیس ریفارمز اور پولیس کے عوام کے ساتھ دوستانہ ماحول پیدا کرنے پر پولیس افسران کی جانب سے بڑے بڑے لیکچر سننے کو ملتے ھیں ،لیکن ڈی ایس پی سرکل چشتیاں اس کے برعکس الٹی گنگا بہہ رھی ھے پولیس کو اللہ تعالیٰ نے بہت موقع اور طاقت دی ہے ،جس سے وہ لوگوں کی خدمت کر سکتے ہیں اور معاشرے سے جرائم کا خاتمہ کر سکتے ہیں ۔لوگوں کو پولیس کے ساتھ بہت ساری شکایات صرف رویہ اور اخلاق کی ہیں اس لئے پولیس کو عوام کے درمیان حائل خلیج کو پر کرنے کے لئے اپنا رویہ اور اخلاق بہتر کرنا چاہئے۔عوام کے ساتھ اچھے رویے سے پیش آنے پر عوام کے زیادہ تر مسائل بآسانی حل ہو سکتے ہیں۔کمیونٹی پالیسنگ کا مطلب ہی یہی ہے کہ عوام سے آچھا تعلق ہو اور کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو ، اس سلسلے میں ہمارے حضور ﷺ ہمارے لئے اخلاق کا بہترین نمونہ ہیں وہ ہمارے لئے مشعل راہ ہیں میں نے گھر پہنچ کر ڈی ایس پی شیخ ارشد صاحب کو موبائل پر کال کی اپنا تعارف کروانے کہ بعد ان کا موقف جاننے کی کوشش کی کیا حکومت کی جانب سے کوئی ھدایت ھے کہ رات کو مقرر کردہ ٹائم دیا ھے اگر دیا بھی ھے تو کیا گلستان بیکری پر یہ قانون کا عملدرآمد نہیں ھوتا تو موصوف میرے سوال پر بھی سیخ پا ھو گئے آج کے اس واقعے نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا کیا یہ تبدیلی سرکار کیا یہ پولیس ریفارمز جس کے دعوے پنجاب پولیس کر رھی ھے کیا یہ ھے ریاست مدینہ چشتیاں میں آئےروز ڈکیٹیاں ھو رھی ھیں کبھی میڈیکل سٹور کو ڈاکو۔ نشانہ بنا رھے ھیں تو کبھی کسی ھوٹل والے کو سی سی ٹی وی فوٹیج ھونے کے باوجود پولیس ڈاکوؤں کو پکڑنے میں ناکام ھے سار زور غریب دھاڑی دار طبقے پر چلا کر سب او کے کی رپورٹ دے رھی ھے اور گلستان بیکری جیسے بڑے تاجروں کو کھلی چھٹی دی ھے جب مرضی دکان بند کریں کیونکہ دعوتیں بھی تو اڑانی ھوتی ھیں آخر میں یہی کہوں گا کہ اللہ پاک ھدایت دے ملک پاکستان کی خیر ھو۔

Share This News With Fiends

اپنا تبصرہ بھیجیں