سیاسی کالم
از قلم عمران حنیف
کہتے ہیں کہ عادات، اخلاق اور طرز عمل خون اور نسل دونوں کی پہچان کرا دیتے ہیں۔
آخر کیوں ہماری عادتیں اور اخلاق اس قدر گراوٹ کا شکار ہے کہ ہماری حرکتیں اس بات کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہیں؟ افسوس کہ آج کل کے اس نام نہاد معاشرے میں نہ ہمیں اپنے اخلاق کا پاس ہے ورنہ اپنی آنے والی نسلوں کی فکر۔ ہم اس بات سے قطع نظر کہ ہمارے منہ سے نکلے الفاظ دوسروں کو ہمارے خاندان اور نسل کا بتاتے ہیں، ہم بس اس بات پر زور دیتے نظر آتے ہیں کہ الفاظ کچھ بھی ہو بس ہماری بات سنی جائے چاہے تعمیری ہو یا تخریبی۔
ہماری سیاست میں اب یہ معمول بن چکا ہے کے سامنے والے کو اپنا گرویدہ کرنے کے بجائے اس کی پگڑیاں اچھالی جائے اسی طرح کا ایک واقع آج ضمنی الیکشن حلقہ پی پی 241 میں ایک سیاسی حریف کی طرف سے دیکھنے کو ملا موصوف نے تین صفحات پر مشتمل شہر کے معززین اور کچھ تو ایسے چہرے بھی ھیں جن کو میں بہت قریب سے جانتا ھوں ان کے بارے میں مبینہ طور پر جھوٹی و بے بنیاد اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے لسٹ جاری کر کے ان کو ضمیر فروش کے سرٹیفکیٹ سے نواز دیا جس پر سیاسی سماجی و عوامی بلکہ ان کے اپنے سیاسی گروپ کے ساتھیوں نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا خیر یہ ان کا اپنا ظرف تھا ان تمام تر الزامات کا جواب آج ھونے والے ضمنی الیکشن کے نتائج کی صورت میں سامنے آئیں گے
آپ کے خیال میں سیاسی حریف کا یہ اقدام کیساھے ؟ رائے سے آگاہ کیجئے گا









