تھانہ صدر پولیس بھکر نے روایتی پولیس کا کردار ادا کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کے انصاف کے حوالے سے مروجہ پالیسی اور احکامات کی دھجیاں بکھیر دیں خاندانی معمولی جھگڑے کو طول دے کر فریق کی درخواست پر دوسرے فریق پر بازو فیکچر کا مقدمہ درج کر لیا جبکہ مدعی پارٹی کے بچے کا ایک ماہ قبل موٹرسائیکل سے گرنے کے باعث بازو ٹوٹا، ملزمان کا موقف، مقامی جراح نے بھی تصدیق کر دی، ملزمان نے میڈیکل بورڈ کی درخواست دے دی۔
بھکر کے نواحی علاقہ موضع شاہ پور شہانی کے ایک ہی خاندان کے درمیان معمولی رنجش پر پولیس نے تشدد کا اور ضرب کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا سات سالہ مدعی کا ایک ماہ قبل موٹرسائیکل پر ایکسیڈنٹ ہوا جس میں بازو پر فیکچر آیا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بوگس ایم ایل سی بنوا کر محمد عارف اور لدھا خان بلوچ پر مقدمہ درج کروا دیا جس میں پولیس نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے
خاندانی معمولی جھگڑے کو طول دے کر فریق کی درخواست پر دوسرے فریق پر بازو فیکچر کا مقدمہ درج کر لیا جبکہ مدعی پارٹی کے بچے کا ایک ماہ قبل موٹرسائیکل سے گرنے کے باعث بازو ٹوٹا تھا جس کی تصدیق مقامی جراح نے اپنے بیان میں کی ہے ، عدم پیروی پر محمد عارف اور لدھا خان کی قبل از وقت گرفتاری بھی خارج ہو گئی ہے جس کے بعد پولیس ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے ملزمان نے میڈیکل بورڈ کی درخواست دے دی اور وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، آر پی او سرگودھا اور ڈی پی او بھکر سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان کو اس جھوٹے مقدمہ سے جان خلاصی کرواتے ہوئے مقدمہ خارج کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں









